پیر، 26 جنوری، 2015

میری نظر میں

میری نظر میں
مکمل تحریر >>

افسانے



بغیرعنوان کے
ناول
سعادت حسن منٹو
یہ ناول منٹو کے کاغذات میں ملا تھا اور بغیر عنوان کے تھا۔ اسے کتاب ’باقیاتِ منٹو‘ میں شامل کیا گیا تھا۔
انتساب
پنڈت جواہر لال نہرو (وزیر اعظم ہندوستان) کے نام
پنڈت نہرو کے نام پنڈت منٹو کا پہلا خط
(جو اس کتاب کا دیباچہ بن گیا
پنڈت جی۔ السلام علیکم
یہ میرا پہلا خط ہے جو میں آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ آپ ما شاء اللہ امریکنوں میں بڑے حسین متصور کئے جاتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے خد و خال کچھ ایسے برے نہیں ہیں۔ اگر میں امریکہ جاؤں تو شاید مجھے بھی حسن کا رتبہ عطا ہو جائے۔ لیکن آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور میں پاکستان کا عظیم افسانہ نگار۔ ان میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ بہر حال ہم دونوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ آپ کشمیری ہیں اور میں بھی۔ آپ نہرو ہیں ، میں منٹو.... کشمیری ہونے کا دوسرا مطلب خوبصورتی ہے، اور خوبصورتی کا مطلب، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا،
مدت سے میری تمنا تھی کہ آپ سے ملوں ( شاید بشرط زندگی ملاقات ہو بھی جائے) میرے بزرگ تو آپ کے بزرگوں سے اکثر ملتے جلتے رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ایسی صورت نہ نکلی کہ آپ سے ملاقات ہو سکے۔
یہ کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا تک نہیں۔ آواز ریڈیو پر البتہ ضرور سنی ہے وہ بھی ایک دفعہ۔
جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں مدت سے میر ی تمنا تھی کہ آپ سے ملوں ، اس لئے کہ آپ سے میرا کشمیر کا رشتہ ہے۔لیکن اب سوچتا ہوں ، اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کشمیری کسی نہ کسی راستے سے کسی نہ کسی چوراہے پر دوسرے کشمیری سے مل ہی جاتا ہے۔
آپ کسی نہر کے قریب آباد ہوئے اور نہرو ہو گئے اور میں اب تک سوچتا ہوں کہ منٹو کیسے ہو گیا۔ آپ نے تو خیر لاکھوں مرتبہ کشمیر دیکھا ہو گا، مگر مجھے صرف بانہال تک جانا نصیب ہوا ہے۔ میرے کشمیری دوست جو کشمیری زبان جانتے ہیں۔ مجھے بتاتے ہیں کہ منٹو کا مطلب’’ منٹ‘‘ ہے یعنی ڈیڑھ سیر کا بٹہ۔ آپ یقیناً کشمیری جانتے ہوں گے۔ اس خط کا جواب لکھنے کی اگر آپ زحمت فرمائیں تو مجھے ضرور لکھئے کہ ’’ منٹو کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔؟
اگر میں صرف ڈیڑھ سیر ہوں تو میرا آپ کا مقابلہ نہیں آپ پوری نہر ہیں۔ اور میں صرف ڈیڑھ سیر، آپ سے میں کیا ٹکر لے سکتا ہوں ؟ لیکن ہم دونوں ایسی بندوقیں ہیں جو کشمیریوں کے متعلق مشہور کہاوت کے مطابق’’ دھوپ میں ٹھس کرتی ہیں ....‘‘
معاف کیجئے گا۔ آپ اس کا برا نہ مانئے گا.... میں نے بھی یہ فرضی کہاوت سنی تو کشمیری ہونے کی وجہ سے میرا تن بدن جل گیا۔ چونکہ یہ دلچسپ ہے، اس لئے میں نے اس کا ذکر تفریحی کر دیا۔  حالانکہ میں اور آپ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کشمیری کسی میدان میں آج تک نہیں ہارے۔
سیاست میں آ پ کا نام میں بڑے فخر سے لے سکتا ہوں کیونکہ آپ بات کہہ کر فوراً تردید کرنا خوب جانتے ہیں۔ پہلوانی میں ہم کشمیریوں کو آج تک کس نے ہرایا ہے۔ شاعری میں ہم سے کون بازی لے سکا ہے۔ لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی ہے کہ آپ ہمارا دریا بند کر رہے ہیں۔ لیکن پنڈت جی آپ تو صرف نہرو ہیں۔ افسوس کہ میں ڈیڑھ سیر کا بٹہ ہوں۔ اگر میں تیس چالیس ہزار من کا پتھر ہوتا تو خود کو اس دریا میں لڑھکا دیتا کہ آپ کچھ دیر کے لئے اس کو نکالنے کے لئے اپنے انجینئروں سے مشورہ کرتے رہتے۔
پنڈت جی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ بڑے آدمی ہیں ، آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں ، اس ملک پر جس سے ہمارا بھی تعلق رہا ہے۔ آپ کی حکمرانی ہے۔ آپ سب کچھ ہیں۔لیکن گستاخی معاف، کہ آپ نے اس خاکسار( جو کشمیری ہے) کی کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔
دیکھئے۔ میں آپ سے ایک دلچسپ بات کا ذکر کرتا ہوں۔ میرے والد صاحب( مرحوم) جو ظاہر ہے کہ کشمیری تھے۔ جب کسی ہاتو، کو دیکھتے تو اسے گھر لے آتے ڈیوڑھی میں بٹھا کر اسے نمکین چائے پلاتے، ساتھ قلچہ بھی ہوتا۔ اس کے بعد وہ بڑے فخر سے اس ’’ہاتو‘‘ سے کہتے’’ میں بھی کاشر ہوں ‘‘
پنڈت جی آپ کاشر ہیں .... خدا کی قسم اگر آپ میری جان لینا چاہیں تو ہر وقت حاضر ہے۔ میں جانتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ آپ صرف اس لئے کشمیر کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں کہ آپ کو کشمیر سے کشمیری ہونے کے باعث بڑی مقناطیسی قسم کی محبت ہے۔ یہ ہر کشمیری کو خواہ اس نے کبھی کشمیر دیکھا بھی نہ ہو، ہونا چاہئے۔
جیسا کہ میں اس خط میں پہلے لکھ چکا ہوں ، میں صرف بانہال تک گیا ہوں ، کد۔ بٹوت، کشٹوار یہ سب علاقہ میں نے دیکھے ہیں لیکن حسن کے ساتھ میں نے افلاس چپکا دیکھا۔ اگر آپ نے اس افلاس کو دور کر دیا ہے تو آپ کشمیر اپنے پاس رکھئے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ کشمیری ہونے کے باوجود اسے دور نہیں کر سکتے، اس لئے کہ آپ کو اتنی فرصت ہی نہیں۔
آپ ایسا کیوں نہیں کرتے.... میں آپ کا پنڈت بھائی ہوں ، مجھے بلا لیجئے۔ میں پہلے آپ کے گھر شلجم کی شب دیگ کھاؤں گا۔ اس کے بعد کشمیر کا سارا کام سنبھال لوں گا۔ یہ بخشی وغیرہ اب بخش دینے کے قابل ہیں .... اول درجے کے چار سو بیس ہیں انہیں آپ نے خواہ مخواہ اپنی ضروریات کے مطابق اعلیٰ رتبہ بخش دیا ہے.... آخر کیوں ؟.... میں سمجھتا ہوں کہ آپ سیاست دان ہیں ، جو کہ میں نہیں ہوں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کوئی بات سمجھ نہ سکوں۔
بٹوارہ ہوا۔ ریڈ کلف نے جو جھک مار نا تھا مارا۔ آپ نے جونا گڑھ پر نا جائز طور پر قبضہ کر لیا، جو کہ کشمیری، کسی مرہٹے کے زیر اثر ہی کر سکتا ہے۔ میرا مطلب پٹیل سے ہے( خدا اسے مغفرت کرے)
حیدر آباد پر بھی آپ نے جارحانہ حملہ کیا وہاں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اور آخر میں ا س پر قبضہ جما لیا۔کیا یہ سراسر زیادتی نہیں آپ کی؟
آپ انگریزی زبان کے ادیب ہیں .... میں بھی یہاں اردو میں افسانہ نگاری کرتا ہوں ....اس زبان میں جس کو آپ ہندوستان میں مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پنڈت جی، میں آپ کے بیانات پڑھتا رہتا ہوں۔ ان سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آپ کو اردو عزیز ہے لیکن میں نے آپ کی ایک تقریر ریڈیو پر جب ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوئے تھے، سنی.... آپ کی انگریزی کے تو سب قائل ہیں ، لیکن جب آپ نے نام نہاد اردو میں بولنا شروع کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی انگریزی تقریر کا ترجمہ کسی کٹر مہا سبھائی نے کیا ہے، جسے پڑھتے وقت آپ کی زبان کا ذائقہ درست نہیں تھا۔ آپ ہر فقرے پر ابکائیاں لے رہے تھے۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نے ایسی تحریر پڑھنا قبول کیسے کی.... یہ اس زمانے کی بات ہے جب ریڈ کلف نے ہندوستان کی ڈبل روٹی کے دو توس بنا کے رکھ دئیے تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک وہ سینکے نہیں گئے۔ ادھر آپ سینک رہے ہیں ، اور ادھر ہم۔ لیکن آپ کی ہماری انگیٹھیوں میں آگ باہر سے آ رہی ہے۔
پنڈت جی، آج کل بگو گوشوں کا موسم ہے.... گوشے تو خیر میں نے بے شمار دیکھے ہیں۔لیکن بگو گوشے کھانے کو جی بہت چاہتا ہے۔یہ آپ نے کیا ظلم کیا کہ بخشی کو سارا حق بخش دیا، کہ وہ بخششیں میں بھی مجھے تھوڑے سے بگو گوشے نہیں بھیجتا۔
بخشی جائے جہنم میں اور بگو گوشے.... نہیں وہ جہاں ہیں سلامت رہیں مجھے آپ سے دراصل کہنا یہ تھا کہ آپ میری کتابیں کیوں نہیں پڑھتے۔ آپ نے اگر پڑھی ہیں تو مجھے افسوس ہے کہ آپ نے داد نہیں دی۔ اگر نہیں پڑھیں تو اور بھی زیادہ افسوس کا مقام ہے، اس لئے آپ ادیب ہیں۔
آپ سے مجھے ایک اور بھی گلہ ہے۔ آپ ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر رہے ہیں اور آپ کی دیکھا دیکھی آپ کی راج دھانی کے پبلشر میری اجازت کے بغیر میری کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی شرافت ہے.... میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ کی وزارت میں ایسی کوئی بے ہودہ حرکت ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر آپ کو فوراً معلوم ہو سکتا ہے کہ دلی۔ لکھنؤ اور جالندھر میں کتنے ناشروں نے میری کتابیں ناجائز طور پر چھاپی ہیں۔
فحش نگاری کے الزام میں مجھ پر کئی مقدمے چل چکے ہیں ، مگر یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ دلی میں ، آپ کی ناک کے عین نیچے وہاں کا ایک پبلشر میرے افسانوں کا مجموعہ’’ منٹو کے فحش افسانے‘‘ کے نام سے شائع کرتا ہے۔
میں نے کتاب’’ گنجے فرشتے‘‘ لکھی .... اس کو آپ کے بھارت کے ایک پبلشر نے ’’ پردے کے پیچھے‘‘ کے عنوان سے شائع کر دیا.... اب بتایئے میں کیا کروں.... آپ ہی کچھ کیجئے۔
میں نے یہ نئی کتاب لکھی ہے کہ اس کا دیباچہ یہی خط ہے جو میں نے آ پ کے نام لکھا ہے.... اگر یہ کتاب بھی آپ کے یہاں نا جائز طور پر چھپ گئی تو خدا کی قسم کسی نہ کسی طرح دلی پہنچ کر آپ کو گریبان سے پکڑ لوں گا۔ پھر چھوڑوں گا نہیں آپ نے.... آپ کے ساتھ ایسا چمٹوں گا کہ آپ ساری عمر یاد رکھیں گے۔ ہر روز صبح کو آپ سے کہوں گا کہ نمکین چائے پلائیں۔ ساتھ ایک تافتانہ بھی ہو شلجموں کی شب دیک تو خیر ہر ہفتے کے بعد ضرور ہو گی۔
یہ کتاب چھپ جائے تو میں اس کا ایک نسخہ آپ کو بھیجوں گا۔ امید ہے آپ اس کی رسید سے مجھے ضرور مطلع کریں گے،اور میری تحریر کے متعلق اپنی رائے سے بھی ضرور آگاہ کریں گے۔
آپ کو میرے خط سے جلے ہوئے گوشت کی بو آئے گی.... آپ کو معلوم ہے ہمارے وطن کشمیر میں ایک شاعر غنی رہتا تھا جو غنی کاشمیری کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پاس ایران سے ایک شاعر آیا ہے۔ اس کے گھر کے دروازے کھلے تھے، اس لئے کہ وہ گھر میں نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میرے گھر میں ہے کیا جو میں دروازے بند رکھوں۔ البتہ جب میں گھر میں ہوتا ہوں تو دروازے بند کر دیتا ہوں ، اس لئے کہ میں ہی تو اس کی واحد دولت ہوں۔
ایرانی شاعر اس کے ویران گھر میں اپنی بیاض چھوڑ گیا۔ اس میں ایک شعر نامکمل تھا مصرع ثانی ہو گیا، مگر مصرع اولیٰ اس شاعر سے نہیں کہا گیا تھا۔ مصرع ثانی یہ تھا
کہ از لباس تو بوئے کباب  می آید
جب وہ ایرانی شاعر کچھ دیر کے بعد واپس آیا تو اس نے اپنی بیاض دیکھی مصرع اولیٰ موجود تھا
کدام سوختہ جان دست زدبد امانت
پنڈت جی، میں بھی ایک سوختہ جان ہوں۔ میں نے آپ کے دامن میں اپنا ہاتھ دیا ہے، اس لئے کہ میں یہ کتاب آپ کے نام سے معنون کر رہا ہوں۔
سعادت منٹو
27 اگست1954ء
(۱)
آئے دن سعید کو زکام ہوتا تھا۔ ایک روز جب اس زکام نے تازہ حملہ کیا تو اس نے سوچا.... مجھے عشق کیوں نہیں ہوتا؟ سعید کے جتنے دوست تھے سب کے سب عشق کر چکے تھے۔  ان میں سے کچھ ابھی تک اس میں گرفتار تھے۔ لیکن جس قدر وہ محبت کو اپنے پاس دیکھنا چاہتا۔ اسی قدر اس کو اپنے سے دور پاتا۔ عجیب بات ہے مگر اس کو ابھی تک کسی سے عشق نہیں ہوا تھا۔ جب کبھی وہ سوچتا کہ واقعی اس کا دل عشق و محبت سے خالی ہے تو اسے شرمندگی سی محسوس ہوتی اور وقار کو ٹھیس سی پہنچتی۔
بیس سال کا  عرصہ جس میں کئی برس اس کے بچپن کی بے شعوری کی دھند میں لپٹے ہوئے تھے۔ کبھی کبھی اس کے سامنے لاش کی مانند اکڑ جاتا تھا۔  اور سوچتا کہ اس کا وجود اب تک بالکل بیکار رہا ہے۔ محبت کے بغیر آدمی کیونکر مکمل ہو سکتا ہے؟
سعید کو اس بات کا احساس تھا کہ اس کا دل خوبصورت ہے اور اس قابل ہے کہ محبت اس میں رہے، لیکن وہ مرمریں محل کس کام کا جس میں رہنے والا کوئی بھی نہ ہو، چونکہ اس کا دل محبت کرنے کا اہل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اس خیال سے بہت دکھ ہوتا کہ اس کی دھڑکنیں بالکل فضول ضائع ہو رہی ہیں۔
اس نے لوگوں سے سنا تھا زندگی میں ایک بار محبت ضرور آتی ہے۔ خود اسے بھی اس بات کا ہلکا سا یقین تھا کہ موت کی طرح محبت ایک بار ضرور آئے گی۔ مگر کب؟ کب؟ کاش اس کی کتاب حیات اس کی اپنی جیب میں ہوتی۔ جسے کھول کر وہ اس کا جواب فوراً پا لیتا۔ مگر یہ کتاب تو واقعات خود لکھتے ہیں۔  جب محبت آئے گی تو خود بخود اس کتاب حیات میں نئے ورقوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ وہ ان نئے ورقوں کے اضافے کے لئے کتنا بے تاب تھا۔
وہ جب چاہے اٹھ کر ریڈیو پر گیت سن سکتا تھا۔ جب چاہے کھانا کھا سکتا تھا۔ اپنی مرضی کے مطابق ہر وقت وسکی بھی پی سکتا تھا۔ جس کی اس کے مذہب میں ممانعت تھی۔ وہ اگر چاہتا تو استرے سے اپنے گال بھی زخمی کر لیتا۔ مگر حسب منشا کسی سے محبت نہیں کر سکتا تھا۔
ایک بار اس نے بازار میں ایک نوجوان لڑکی دیکھی، اس کی چھاتیاں دیکھ کر اسے ایسا معلوم ہوا کہ دو بڑے بڑے شلجم ڈھیلے کرتے میں چھپے ہوئے ہیں۔ شلجم اسے بہت پسند تھے۔ سردیوں کے موسم میں کوٹھے پر جب اس کی ماں لال لال شلجم کاٹ کر سکھانے کے لئے ہار پرویا کرتی تھی۔ تو وہ کئی کچے شلجم کھا جایا کرتا تھا۔ اس لڑکی کو دیکھ کر اس کی زبان پر وہی ذائقہ پیدا ہوا جو شلجم کا گودا چباتے وقت پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے دل میں اس سے عشق کرنے کا خیال پیدا نہ ہوا۔ وہ اس کی چال کو غور سے دیکھتا رہا جس میں ٹیڑھا پن تھا۔ ویسا ہی ٹیڑھا پن، جیسا کہ برسات کے موسم میں چارپائی کے پایوں میں کان کے باعث پیدا ہو جایا کرتا ہے۔وہ اس کے عشق میں خود کو گرفتار نہ کر سکا۔
عشق کرنے کے ارادے سے وہ اکثر اوقات اپنی گلی کے نکڑ پر دریوں کی دکان پر جا بیٹھتا تھا۔ یہ دوکان سعید کے ایک دوست کی تھی جو ہائی سکول کی ایک لڑکی سے محبت کر رہا تھا۔ اس لڑکی کی محبت لدھیانے کی ایک دری کے ذریعے سے پیدا ہوئی تھی۔ دری کے دام اس لڑکی کے بیان کی بموجب اس کے دو پٹے کے پلو سے کھل کر کہیں گر پڑے تھے۔ لطیف چونکہ اس کے گھر کے پاس رہتا تھا اس لئے اس نے اپنے چچا کی جھڑکیوں اور گالیوں سے بچنے کے لئے اس سے دری ادھار مانگی اور.... دونوں میں محبت ہو گئی۔شام کو بازار میں آمدورفت زیادہ ہو جاتی۔ اور دربار صاحب جانے کے لئے چونکہ راستہ وہی تھا۔ اس لئے عورتیں بھی کافی تعداد میں اس کی نظروں کے سامنے سے گذرتی تھیں۔ مگر جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہوتا کہ جتنے لوگ بازار میں چلتے پھرتے ہیں۔ سب کے سب شفاف ہیں۔ اس کی نگاہیں کسی عورت، کسی مرد پر نہیں رکتی تھیں۔ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ کو اس کی آنکھیں ایک ایسی متحرک جھلی سمجھتی تھی جس میں سے وہ آسانی کے ساتھ جدھر چاہیں دیکھ سکتی ہیں ....
اس کی آنکھیں کدھر دیکھتی تھیں۔ یہ نہ آنکھوں کو معلوم تھا، اور نہ سعید کو، اس کی نگاہیں دور بہت دور سامنے چونے اور گارے کے بنے ہوئے پختہ مکانوں کو چھیدتی ہوئی نکل جاتیں۔ نہ جانے کہاں اور خود ہی کہیں گھوم گھام کر اس کے دل کے اندر آ جاتیں۔بالکل ان بچوں کی مانند جو اپنی ماں کی چھاتی پر اوندھے منہ لیٹے ناک، کان اور بالوں سے کھیل کھال کر اپنے ہاتھوں کو تعجب آمیز دلچسپی سے دیکھتے دیکھتے نیند کے نرم نرم گالوں میں دھنس جاتے ہیں۔
لطیف کی دکان پر گاہک بہت کم آتے تھے۔  اس لئے وہ اس کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے مختلف قسم کی باتیں کیا کرتا تھا۔ لیکن وہ سامنے لٹکی ہوئی دری کی طرف دیکھتا رہتا، جس میں رنگ برنگ کے بے شمار دھاگوں کے الجھاؤ نے ایک ڈیزائن پیدا کر دیا تھا۔ لطیف کے ہونٹ ہلتے رہتے ، اور وہ یہ سوچتا رہتا کہ اس کے دماغ کا نقشہ دری کے ڈیزائن سے کس قدر ملتا جلتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ یہ خیال کرتا کہ اس کے اپنے خیالات ہی باہر نکل کر اس دری پر رینگ رہے ہیں۔
اس دری میں اور سعید کی دماغی حالت میں بلا کی مشابہت تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ رنگ برنگ کے دھاگوں کے الجھاؤ نے اس کے سامنے دری کی صورت اختیار کر لی تھی۔ اور اس کے رنگ برنگی خیالات و محسوسات کا الجھاؤ ایسی صورت اختیار نہیں کر تا تھا، جس کو وہ دری کی مانند اپنے سامنے بچھا کریا لٹکا کر دیکھ سکتا!
لطیف بے حد خام تھا۔ گفتگو کرنے کا سلیقہ تک اسے نہیں آتا تھا، کسی شے میں خوبصورتی تلاش کرنے کے لئے اس سے کہا جاتا تو فرط حیرت سے بالکل بے وقوف دکھائی دیتا، اس کے اندر وہ بات ہی پیدا نہیں ہوئی تھی، جو ایک آرٹسٹ میں پیدا ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک لڑکی اس سے محبت کرتی تھی۔ اس کو خط لکھتی تھی، جس کو لطیف البتہ یوں پڑھتا تھا جیسے کسی تیسرے درجے کے اخبار میں جنگ کی خبریں پڑھ رہا ہے، ان خطوط میں وہ کپکپاہٹ اسے نظر نہیں آتی تھی جو ہر لفظ میں گندھی ہوئی ہے۔ وہ لفظوں کی نفسیاتی اہمیت سے بالکل بے خبر تھا۔ اس سے اگر یہ کہا جاتا، دیکھو لطیف یہ پڑھو.... لکھتی ہے۔‘‘ میری پھوپھی نے کل مجھ سے کہا، کیا ہوا ہے تیری بھوک کو؟ تو نے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا ہے۔ جب میں نے سنا تو معلوم ہوا کہ سچ مچ میں آج کل بہت کم کھاتی ہوں۔ دیکھو میرے لئے کل شہاب الدین کی دو کان سے کھیر لیتے آنا.... جتنی لاؤ گے سب چٹ کر جاؤں گی۔ اگلی پچھلی کسر نکال دوں گی.... کچھ معلوم ہوا تمہیں اس سطر میں کیا ہے.... تم شہاب الدین کی دوکان سے کھیر کا ایک بہت بڑا ڈونا لے کر جاؤ گے۔ لیکن لوگوں کی نظروں سے بچ بچا کر ڈیوڑھی میں جب تم اسے یہ تحفہ دو گے تو اس خیال سے خوش نہ ہونا کہ وہ ساری کھیر کھا جائے گی، وہ کبھی نہیں کھا سکے گی .... پیٹ بھر کر وہ کچھ کھا ہی نہیں سکتی، جب دماغ میں خیالات کا ہجوم جمع ہو جائے تو پیٹ خود بخود بھر جایا کرتا ہے، لیکن یہ فلسفہ اس کی سمجھ میں کیسے آتا۔ وہ تو سمجھنے سمجھانے سے بالکل کورا تھا۔ جہاں تک شہاب الدین کی دکان سے چار آنے کی کھیر اور ایک آنے کی خوشبو دار ربڑی خریدنے کا تعلق تھا، لطیف بالکل ٹھیک تھا، لیکن کھیر کی فرمائش کیوں کی گئی اور اس کے ذریعہ سے اشتہا پیدا کرنے کا خیال کن حالات کے تحت اس کی محبوبہ کے دماغ میں پیدا ہوا۔ اس سے لطیف کو کو ئی سرور کار نہیں تھا۔ وہ اس قابل ہی نہیں تھا کہ ان باریکیوں کو سمجھ سکے۔ وہ موٹی عقل کا آدمی تھا، جو لوہے کی زنگ آلود گز سے نہایت بھونڈے طریقے سے دریاں ماپتا تھا۔ اور شاید اسی طرح کے گز سے اپنے احساسات کی پیمائش بھی کرتا تھا۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک لڑکی اس کی محبت میں گرفتار تھی، جو ہر جہت سے اس کے مقابلہ میں ارفع و اعلیٰ تھی۔ لطیف اور اس میں اتنا ہی فرق تھا، جتنا لدھیانے کی دری اور کشمیر کے گدگدے قالین میں۔
سعید کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ محبت پیدا کیسے ہوتی ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ خود جس وقت چاہے رنج و الم طاری کر سکتا تھا۔ محبت جس کے لئے وہ اس قدر بے تاب تھا۔
اس کا ایک اور دوست جواس قدر کاہل تھا کہ مونگ پھلی اور چنے، صرف اس صورت میں کھا سکتا تھا اگر ان کے چھلکے اترے ہوئے ہوں اپنی گلی کی ایک حسین لڑکی سے محبت کر رہا تھا، ہر وقت اس کے حُسن کی تعریف میں رطب اللسان رہتا تھا۔ لیکن اگر اس سے پوچھا جاتا.... یہ حسن تمہاری محبوبہ میں کہاں سے شروع ہوتا تو یقیناً وہ خالی الذہن ہو جاتا۔ جس کا مطلب وہ بالکل نہیں سمجھتا تھا۔ کالج میں تعلیم پانے کے باوجود اس کے ذہن کی نشوونما بڑے ادنیٰ طریقے پر ہوئی تھی، لیکن اس کی محبت کی داستان اتنی لمبی تھی کہ اقلیدس سے بڑی کتاب تیار ہو جاتی۔ آخر ان لوگوں کو.... ان جاہلوں کو عشق و محبت کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟.... کئی بار یہ سوال سعید کے دماغ میں پیدا ہوا اور اس کی پریشانی بڑھ گئی لیکن دیر تک سوچ بچار کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ محبت کرنے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے،خواہ وہ بے شعور ہو یا با شعور....
دوسروں کو محبت کرتے دیکھ کر دراصل اس کے دل میں حسد کی چنگاری بھڑک اٹھتی تھی، وہ جانتا تھا کہ وہ بہت بڑا کمینہ پن ہے مگر وہ مجبور تھا، محبت کرنے کی خواہش اس پر اس قدر غالب رہتی کہ بعض اوقات دل ہی دل میں محبت کرنے والوں کو گالیاں بھی دیا کرتا۔ لیکن گالیاں دینے کے بعد اپنے آپ کو بھی کوستا۔ کہ ناحق اس نے دوسروں کو برا بھلا کہا۔ اگر دنیا کے سارے آدمی ایک دم محبت کرنے لگیں تو اس میں میرے باوا کا کیا جاتا ہے مجھے صرف اپنی ذات سے تعلق رکھنا چاہئے اگر میں کسی کی محبت میں گرفتار نہیں ہوتا تو ا س میں دوسروں کا کیا قصور ہے، بہت ممکن ہے کہ میں کسی لحاظ سے اس قابل ہی نہیں ہوں ، کیا پتہ ہے کہ بیوقوف اور بے عقل ہونا ہی محبت کرنے کے لئے ضروری ہو....‘‘
سوچتے سوچتے ایک دن وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ محبت ایک دم پیدا نہیں ہوتی۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ محبت ایک دم پیدا ہو تی ہے۔  اگر ایسا ہوتا تو ظاہر ہے کہ اس کے دل میں اب سے بہت عرصہ پہلے محبت پیدا ہو گئی ہوتی، کئی لڑکیاں اس کی نگاہوں سے اب تک گذر چکی تھیں ، اگر محبت ایک دم پیدا ہو سکتی تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خود کو بڑی آسانی کے ساتھ وابستہ کر سکتا تھا۔ کسی لڑکی کو صرف ایک دو بار دیکھ لینے سے محبت کیسے پیدا ہو جاتی ہے، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
تھوڑے روز ہوئے ایک دوست نے جب اس سے کہا، کمپنی باغ میں آج میں نے ایک لڑکی دیکھی ایک ہی نظر میں اس نے مجھے گھائل کر دیا تو اس کی طبیعت مکدر ہو گئی۔ ایسے فقرے اس کو بہت پست معلوم ہوتے تھے۔ایک ہی نظر میں اس نے مجھے گھائل کر دیا۔ لاحول ولا.... جذبات کا کس قدر عامیانہ اظہار ہے۔‘‘
جب وہ اس قسم کی پست اور تیسرے درجے کے فقرے کسی کی زبان سے سنتا تو اسے ایسا معلوم ہوتا کہ اس کے کانوں میں پگھلتا ہوا سیسہ ڈال دیا گیا ہے۔
مگر پست ذہنیت اور لنگڑے مذاق کے لوگ اس سے زیادہ خوش تھے یہ لوگ جو عشق و محبت کی لطافتوں سے بالکل کورے تھے.... اس کے مقابل میں بہت زیادہ سکون اور آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔
محبت اور زندگی کو ایم۔ اسلم کی نگاہوں سے دیکھنے والے خوش تھے۔ مگر سعید جو کہ محبت اور زندگی کو اپنی صاف اور شفاف آنکھوں سے دیکھتا تھا۔ مغموم تھا.... بیحد مغموم....
ایم، اسلم سے اسے بے حد نفرت تھی۔ اتنا چھچھورا رومان نویس.... اس کی نظروں سے کبھی نہ گذرا تھا۔ اس کے افسانے پڑھ کر ہمیشہ اس کا خیال ٹبی اور کٹڑہ گھنیاں کی کھڑکیوں کی طرف دوڑ جاتا۔ جن میں رات کو کسبیوں کے غازہ لگے گال نظر آتے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اکثر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اسی کے افسانے معاشقہ پیدا کرتے تھے۔
جو عشق ایم۔ اسلم کے افسانے پیدا کرتے ہیں۔ کس قسم کا عشق ہو گا! جب وہ اس پر تھوڑی دیر غور کرتا تو اسے تصور میں یہ عشق ایک ایسے سفلے آدمی کی شکل میں دکھائی دیتا جس نے نمائش کی خاطر اپنے سب اچھے اچھے کپڑے پہن رکھے ہوں ، ایک کے اوپر ایک؟
ایم۔اسلم کے افسانوں کے بارے میں اس کی رائے کیسی بھی ہو۔ لیکن یہ حقیقت تھی کہ نوجوان لڑکیاں انہیں چھپ چھپ کر پڑھتی تھیں۔اور جب ان کے جذبات بر انگیختہ ہوتے تھے تو وہ اسی آدمی سے محبت کرنا شروع کر دیتی تھیں جو ان کو سب سے پہلے نظر آ جائے۔ اسی طرح بہزاد جس کی غزلیں ہندوستان کی ہر جان اور بائی، رات کوٹھوں پر گاتی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بہت مقبول تھا۔ کیوں ؟ یہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا؟
بہزاد کی وہ عامیانہ غزل جس کا مطلع
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
ہے قریب قریب ہر شخص گاتا تھا۔ اس کے اپنے گھر میں اس کی چپٹی ناک والی نوکرانی جو اپنی جوانی کی منزلیں طوعاً و کرہاً طے کر چکی تھی برتن مانجتے وقت ہمیشہ دھیمے سروں میں گنگنایا کرتی تھی
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
اس غزل نے اسے دیوانہ بنا دیا تھا جہاں جاؤ
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
الاپا جا رہا ہے۔ آخر کیا مصیبت ہے۔ کوٹھے پر چڑھو تو کانا اسمٰعیل ایک آنکھ سے اپنے اڑتے ہوئے کبوتروں کی طرف دیکھ کر اونچے سروں میں گا رہا ہے۔’’ دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔‘‘ دریوں کی دکان پر بیٹھو تو، بغل کی دکان پر لالہ کشوری مل بزاز اپنے بڑے بڑے چوتڑوں کی گدیوں پر آرام سے بیٹھ کر نہایت بھونڈے طریقے پر گانا شروع کر دیتا ہے۔’’ دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔‘‘ دریوں کی دکان سے اٹھو اور بیٹھک میں جا کر ریڈیو کھولو تو اختری بائی فیض آبادی گا رہی ہے۔’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘‘ کیا بیہودگی ہے، وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا۔ لیکن ایک روز جبکہ وہ بالکل خالی الذہن تھا اور پان بنانے کے لئے چھالیا کاٹ رہا تھا اس نے خود غیر ارادی طور پر گانا شروع کر دیا۔
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
وہ اپنے آپ میں بے حد خفیف ہوا۔ اسے خود پر بہت غصہ بھی آ یا۔ لیکن پھر ایکا ایکی زور سے ہنسنے کے بعد اس نے جان بوجھ کر اونچے سروں میں گانا شروع کیا، ’’ دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔‘‘ یوں گاتے ہوئے اس نے تصور کے زور  پر بہزاد کی ساری شاعری ایک قہقہے کے نیچے دبا دی اور جی ہی جی میں خوش ہو گیا۔
ایک دو بار اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ بھی ایم، اسلم کی افسانہ نویسی اور بہزاد کی شاعری کا گرویدہ ہو جائے اور یوں کسی سے عشق کرنے میں کامیابی حاصل کر لے۔ لیکن قصد کرنے پربھی وہ ایم اسلم کا افسانہ پورا نہ پڑھ سکا۔اور نہ بہزاد کی غزل ہی میں کوئی خوبصورتی دیکھ سکا؟ ایک دن اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا۔ جو ہو سو ہو میں ایم اسلم اور بہزاد کے بغیر ہی اپنی خواہش پوری کروں گا جو خیالات میرے دماغ میں ہیں ان سب کے سمیت ، میں کسی لڑکی سے محبت کروں گا.... یہی ہے نا کہ، ناکام رہوں گا۔ تو بھی ناکامی ان دو ڈگڈگی بجانے والوں سے اچھی ہے۔‘‘ اس دن سے اس کے اندر عشق کرنے کی خواہش اور بھی تیز ہو گئی۔ اور اس نے ہر روز صبح کو ناشتہ کئے بغیر ریل کے پھاٹک پر جانا شروع کر دیا۔ جہاں کئی لڑکیاں ہائی سکول کی طرف جاتی تھیں۔
پھاٹک کے دونوں طرف لوہے کا ایک بڑا توا جس پر لال روغن پینٹ کیا گیا تھا، جڑا تھا۔ دور سے جب وہ ان دو لال لال تووں کو ایک دوسرے کے پیچھے دیکھتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ فرنٹیر میل آ رہی ہے پھاٹک کے پاس پہنچتے ہی فرنٹیر میل مسافروں سے لدی ہوئی آتی اور دندناتی ہوئی اسٹیشن کی جانب غائب ہو جاتی۔
پھاٹک کھلتا اور وہ لڑکیوں کے انتظار میں ایک طرف کھڑا ہو جاتا۔ ادھر سے پچیس نہیں ، چھبیس لڑکیاں ( پہلے دن اس نے گننے میں غلطی کی تھی) وقت پر ادھر سے گذرتیں اور لوہے کی پٹڑیوں کو طے کر کے کمپنی باغ کے ساتھ والی سڑک کی طرف ہو جاتیں جدھر ان کا اسکول تھا۔ ان چھبیس لڑکیوں میں سے دس لڑکیوں کو جو کہ ہندو تھیں وہ اس لئے غور سے نہ دیکھ سکا کہ باقی سولہ مسلمان لڑکیوں کی شکل و صورت برقعوں میں چھپی رہتی تھی۔
دس روز وہ متواتر پھاٹک پر جاتا رہا۔ شروع شروع میں دو تین دن ان پردہ پوش اور بے پروہ لڑکیوں کی طرف متوجہ رہا۔ مگر دسویں روز جب صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ جس میں کمپنی باغ کے تمام پھولوں کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ اس نے یک لخت اپنے آپ کو لڑکیوں کے بجائے ان پست قد درختوں کی طرف متوجہ پایا جس میں بے شمار چڑیاں چہچہاتی تھیں۔ صبح کی خمار آلود خاموشی میں چڑیوں کا چہچہانا کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اس نے غور کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ ایک ہفتہ سے لڑکیوں کی بجائے ان چڑیوں ، درختوں اور فرنٹیر میل کی موت جیسی یقینی آمد سے دلچسپی لیتا رہا ہے۔
عشق شروع کرنے کے لئے اس نے اور بھی بہت سے حیلے کئے مگر نا کام رہا۔ آخر کار اس نے سوچا۔ کیوں نہ اپنی گلی ہی میں کوشش کی جائے،چنانچہ ایک روز اس نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر ان تمام لڑکیوں کی فہرست بنائی جن سے عشق کیا جا سکتا تھا۔ جب فہرست تیار ہو گئی تو نو لڑکیاں اس کے پیش نظر تھیں۔
نمبر ایک حمیدہ، نمبر دو صغریٰ، نمبر تین نعیمہ، نمبر چار، پشپا، نمبر پانچ، بملا، نمبر چھ راجکماری، نمبر سات فاطمہ عرف پھاتو، نمبر آٹھ زبیدہ عرف بیدی
نمبر9.... اس کا نام اسے معلوم نہیں تھا۔ یہ لڑکی پشمینے کے سوداگروں کے ہاں نو کر تھی۔
اب اس نے نمبر وار کرنا شروع کیا۔
حمیدہ خوبصورت تھی بڑی بھولی لڑکی۔  عمر بمشکل پندرہ برس کی ہو گی۔ سدا متبسم رہتی تھی بڑی نازک، اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سفید شکر کی پتلی ہے، بھربھری اگر ذرا اس کو ہاتھ لگایا تو اس کے جسم کا کوئی حصہ گر جائے گا۔ ننھے سینے پر چھاتیوں کا ابھار ایسے تھا جیسے کسی مدھم راگ میں دو سُر غیر ارادی طور پر اونچے ہو گئے ہیں۔
اگر اس سے وہ کبھی یہ کہتا، حمیدہ میں تم سے محبت کرنا چاہتا ہوں تو یقیناً اس کے دل کی حرکت بند ہو جاتی۔ وہ اسے سیڑھیوں میں ایسی باتیں کہہ سکتا تھا۔ تصور میں وہ حمیدہ سے اسی جگہ ملا.... وہ اوپر سے تیزی کے ساتھ نیچے اتر رہی تھی، اس نے اسے روکا اور اس کی طرف غور سے دیکھا۔ اس کا ننھا سا دل سینہ میں یوں پھڑپھڑایا جیسے تیز ہوا کے جھونکے دیئے کی لو۔ وہ کچھ نہ سمجھ سکا۔
حمیدہ سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، وہ اس قابل ہی نہیں تھی کہ اس سے محبت کی جاتی۔ وہ صرف شادی کے قابل تھی۔ کوئی بھی خاوند اس کے لئے مناسب تھا۔ کیونکہ اس کے جسم کا ہر ذرہ بیوی تھا۔ اس کا شمار ان لڑکیوں میں ہو سکتا تھا، جن کی ساری زندگی شادی کے بعد گھر کے اندر سمیٹ کر رہ جاتی ہے جو بچے پیدا کرتی ہیں اور چند ہی برسوں میں اپنا سارا رنگ روپ کھو دیتی ہیں۔ اور رنگ روپ کھو کر بھی جن کو اپنے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔
ایسی لڑکیوں سے محبت کا نام سن کر جو یہ سمجھیں ایک بہت بڑا گناہ ان سے سرزد ہو گیا ہے، وہ محبت نہیں کر سکتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر وہ کسی روز غالب کا ایک شعر اسے سنا دیتا، تو کئی دنوں تک نماز کے ساتھ بخشش کی دعائیں مانگ کر بھی، وہ یہ سمجھتی کہ اس کی غلطی معاف نہیں ہوئی.... اپنی ماں سے اس نے فوراً ہی ساری بات کہہ سنائی ہوتی۔ اور اس پر جو ادھم مچتا اس کے تصور ہی سے سعید کانپ کانپ اٹھتا۔ ظاہر ہے کہ سب اسے مجرم قرار دیتے اور ساری عمر کے لئے اس کے کردار پر ایک بد نما داغ لگ جاتا۔ کوئی اس بات کی طرف دھیان نہ دیتا کہ وہ صدق دل سے محبت کرنے کا متمنی ہے۔
نمبر دو صغریٰ اور نمبر 3 نعیمہ کے بارے میں سوچنا ہی بیکار تھا۔ اس لئے کہ وہ ایک کٹر مولوی کی لڑکیاں تھیں۔ ان کا تصور کرتے ہی سعید کی آنکھوں کے سامنے اس مسجد کی چٹائیاں آ گئیں جن پر مولوی قدرت اللہ صاحب لوگوں کو نماز پڑھانے اور اذان دینے میں مصروف رہتے تھے۔ یہ لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں ، مگر عجیب بات ہے کہ چہرے محراب نما تھے۔ جب سعید اپنے گھر میں بیٹھا ان کی آواز سنتا تو اسے ایسا لگتا۔ کہ عادت کے طور پر کوئی دھیمے دھیمے سروں میں دعا مانگ رہا ہے۔  ایسی دعا جس کا مطلب وہ خود بھی نہیں سمجھتا۔ ان کو صرف خدا سے محبت کرنا سکھایا گیا تھا۔ اسی لئے سعید ان سے محبت کرنا نہیں چاہتا تھا۔
وہ انسان تھا اور انسان کو اپنا دل دینا چاہتا تھا۔صغریٰ اور نعیمہ کی اس دنیا میں اس طور پر تربیت ہو رہی تھی کہ وہ دوسرے جہان میں نیکو کار مردوں کے کام آ سکیں۔
جب سعید نے ان کے متعلق سوچا تو اپنے آپ سے کہا۔’’ بھئی نہیں۔ ان سے میں عشق نہیں کر سکتا۔ جو انجام کار دوسرے آدمیوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔مجھے اس دنیا میں بھی گناہ کرنے ہیں ، اس لئے میں جو انہیں کھیلنا چاہتا۔ مجھ سے یہ نہ دیکھا جائے گا کہ اس دنیا میں جس سے محبت کرتا ہوں چند گناہوں کے بدلے وہ کسی پرہیز گار کے سپرد کر دی جائیں۔
چنانچہ اس نے فہرست میں سے صغریٰ اور نعیمہ کا نام کاٹ دیا۔
نمبر چار پشپا، نمبر پانچ بملا، نمبر چھ راج کماری، یہ تین لڑکیاں جن کا آپس میں خدا معلوم کیا رشتہ تھا سامنے والے مکان میں رہتی تھیں۔ پشپا کے متعلق سوچ بچار کرنا بالکل فضول تھا۔ اس لئے کہ اس کا بیاہ ہونے والا تھا، ایک بزاز سے جس کا نام اتنا ہی بدصورت تھا جتنا پشپا کا خوبصورت، وہ اکثر اسے چھیڑا کرتا تھا اور کھڑکی میں سے اس کو اپنی کالی اچکن دکھا کر کہا کرتا تھا۔ پشپا بتاؤ تو میری اچکن کا رنگ کیسا ہے۔ پشپا کے گالوں پر ایک سیکنڈ کے لئے گلاب کی پتیاں سی تھرتھرا جاتیں اور وہ بہادری سے جواب دیا کرتی۔’’ نیلا۔‘‘
اس کے ہونے والے خاوند کا نام کالو مل تھا۔ لا حول ولا۔ کس قدر غیر شاعرانہ نام۔ جانے اس کا نام رکھتے ہوئے اس کے والدین نے کیا مصلحت دیکھی تھی۔
وہ جب پشپا اور کالو مل کے متعلق سوچتا، تو اپنے دل سے کہا کرتا، اگر اور کسی وجہ سے ان کی شادی رک نہیں سکتی تو صرف اسی وجہ سے روک دینی چاہئے کہ اس کے ہونے والے پتی کا نام نہایت ہی لغو ہے.... کالو مل.... ایک کالو اور پھر اس پر’’ مل‘‘ لعنت ہے.... آخر اس کا مطلب کیا ہوا....‘‘
لیکن پھر سوچتا اگر پشپا کی شادی کالو مل بزاز سے نہ ہوئی تو کسی گھسیٹا رام حلوائی یا کسی کروڑی مل صراف سے ہو جائے گی۔ بہر حال وہ اس سے عشق نہیں کر سکتا تھا۔ اگر کرتا تو اسے ہندو مسلم فساد کا ڈر تھا۔ مسلمان اور ہندو لڑکی سے محبت کرے.... اول تو محبت ویسے ہی بہت بڑا جرم ہے اور پھر مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی محبت.... نیم پر کریلا چڑھانے والی بات تھی۔
شہر میں کئی ہندو مسلم فساد ہو چکے تھے لیکن جس گلی میں سعید رہتا تھا نامعلوم وجوہات کی بناء پر ان کے اثرات سے اب تک محفوظ رہی تھی۔ اگر وہ پشپا۔بملا یا راج کماری سے محبت کرنے کا ارادہ کر لیتا تو ظاہر ہے کہ دنیا کی تمام گائیں ، اور تمام سور اس گلی میں اکٹھے ہو جاتے ہندو مسلم فسادوں سے سعید کو سخت نفرت تھی۔ اس لئے نہیں کہ یہ لوگ ایک دوسرے کا سر پھوڑتے ہیں اور لہو کے چھینٹے اڑتے ہیں۔ نہیں۔ اس لئے کہ ان فسادوں میں سر نہایت بھدے طریقے پر پھوڑے جاتے ہیں۔ اور لہو جیسی خوبصورت شے کو نہایت ہی بھونڈے طریقے پر بکھیرا جاتا ہے۔
راج کماری جوان دونوں سے چھوٹی تھی، اسے پسند تھی، اس کے ہونٹ جو سانس کی کمی کے باعث خفیف طور پر کھلے رہتے تھے اسے بے حد پسند تھے، ان کو دیکھ کر اسے ہمیشہ خیال آتا تھا، کہ شاید کہ ایک بوسہ ان کے ساتھ چھو کر آگے نکل گیا ہے، ایک مرتبہ اس نے راج کماری کو جو ابھی اپنی عمر کی چودھویں منزل طے کر رہی تھی اپنے مکان کی تیسری منزل پر غسل خانے میں نہاتے دیکھا تھا۔ اپنے مکان کے جھرنوں سے جب سعید نے اس کی طرف دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا۔ کہ اس کا کوئی نہایت ہی اچھوتا خیال دماغ سے اتر کر سامنے آ کھڑا ہوا ہے، سورج کی موٹی موٹی کرنیں ، جن میں بیشمار فضائی ذرے مقیش کا چھڑکاؤ سا کر رہے تھے۔اس کے ننگے بدن پر پھیل رہی تھیں۔ ان کرنوں نے اس کے گورے بدن پر سونے کا پترا سا چڑھا دیا تھا، بالٹی میں سے جب اس نے ڈونگا نکالا اور کھڑی ہو کر اپنے بدن پر پانی ڈالا تو وہ سونے کی پتلی دکھائی دی، پانی کے موٹے موٹے قطرے اس کے بدن پر سے گر رہے تھے اور جیسے سونا پگھل پگھل کر گر رہا تھا۔
راجکماری، پشپا اور بملا کے مقابلے میں بہت ہوشیار تھی۔ اس کی پتلی پتلی انگلیاں جو ہر وقت یوں متحرک رہتی تھیں جیسے خیالی جرابیں بن رہی ہیں۔ اسے بہت پسند تھیں ، ان کی انگلیوں میں رعنائی تھی اور اس رعنائی کا ثبوت، کروشیئے اور سوئی کے ان کاموں سے ملتا تھا جو کئی بار دیکھ چکا تھا۔
ایک بار راج کماری کے ہاتھ کا بنا ہوا میز پوش دیکھ کر اسے خیال آیا کہ اس نے اپنے دل کی بہت سی دھڑکنیں بھی، غیر ارادی طور پر اس کے ننھے ننھے خانوں میں گوندھ دی ہیں۔ ایک بار جبکہ وہ اس کے بالکل پاس کھڑی تھی اس کے دل میں محبت کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ مگر جب اس نے راج کماری کی طرف دیکھا تو وہ اسے ایک مندر کی صورت میں دکھائی دی۔ جس کے پہلو میں وہ خود بخود مسجد کی شکل میں کھڑا تھا.... مسجد اور مندر میں کیونکر دوستی ہو سکتی ہے۔
گلی کی تمام لڑکیوں کے مقابلے میں یہ ہندو لڑکی ذہنی لحاظ سے بلند تھی۔ اس کی پیشانی جس پر ہر وقت ایک مدھم سی سلوٹ گہرائی اختیار کرنے کا ارادہ کئے رہتی تھی، اسے بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ اس کا ما تھا دیکھ کر وہ دل ہی دل میں کہا کرتا جب دیباچہ اتنا دلچسپ ہے تو معلوم نہیں کتاب کتنی دلچسپ ہو گی.... مگر.... آہ.... یہ مگر!.... اس کی زندگی میں یہ مگر سچ مچ کا مگر بن کر رہ گیا تھا۔جو اسے غوطہ لگانے سے ہمیشہ باز رکھتا تھا۔
نمبر سات فاطمہ عرف پھاتو۔ خالی نہیں تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ عشق سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک امجد سے جو ورکشاپ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور دوسرا اس کے چچیرے بھائی سے جو دو بچوں کا باپ تھا۔ فاطمہ عرف پھاتو ان دونوں بھائیوں سے عشق کر رہی تھی۔ گویا ایک پتنگ سے دو پیچ لڑا رہی ہے، ایک پتنگ میں جب دو اور پتنگ الجھ جائیں تو کافی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے لیکن اگر اس تگڈے میں ایک اور پیچ کا اضافہ ہو جائے تو ظاہر ہے کہ الجھاؤ ایک بھول بھلیاں کی صورت اختیار کر لے گا۔ اس قسم کا الجھاؤ سعید کو پسند نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پھاتو جس قسم کے عشق میں گرفتار تھی، نہایت ہی ادنیٰ قسم کا تھا۔ جب سعید اس قسم کے عشق کا تصور کرتا۔ تو پرانی عشقیہ داستانوں کی بوڑھی کٹنی پیلے کاغذوں کے بدبو دار انبار میں سے اس کی آنکھوں کے سامنے لاٹھی ٹیکتی ہوئی آ جاتی۔ اور اس کی طرف یوں دیکھتی جیسے کہنا چاہتی ہے۔ میں آسمان کے تارے توڑ کر لا سکتی ہوں بتا تیری نظر کس لونڈیا پر ہے، یوں چٹکیوں .... میں تجھ سے ملا دوں گی۔
اس بڑھیا کے تصور کے ساتھ ہی وہ پائیں باغ کے متعلق سوچتا، یا ظاہراً پیر کا مزار اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔ جہاں وہ بڑھیا اس کی محبوبہ کو کسی بہانے سے لا سکتی تھی.... اس خیال کے آتے ہی اس کی محبت کا سارا جذبہ سمٹ جاتا اور ایک ایسی قبر کی صورت اختیار کر لیتا جس پر سبز رنگ کا غلاف چڑھا ہو اور بے شمار ہار اس پر بکھرے ہوں ....
کبھی کبھی اسے یہ بھی خیال آتا اگر کٹنی نا کام رہی تو کچھ دنوں کے بعد اس محلے سے میرا جنازہ نکلے گا، اور دوسرے محلے سے میری نو جوان محبوبہ کا، یہ دونوں جنازے راستے میں ٹکرائیں گے، اور دو تابوتوں کا ایک تابوت بن جائے گا۔ یا عشقیہ داستانوں کے انجام کی طرح جب مجھے اور میری محبوبہ کو دفن کیا جائے گا۔ تو ایک معجزہ رونما ہو گا اور دونوں قبریں آپس میں مل جائیں گی۔ وہ یہ بھی سوچتا کہ اگر وہ مر گیا اور اس کی محبوبہ کسی وجہ سے جان نہ دے سکی تو ہر جمعرات کو اس کی قبر پر نازک نازک ہاتھ پھول چڑھایا کریں گے اور دیا بھی جلایا کریں گے۔ بال کھول کر وہ اپنا سر قبر کے ساتھ پھوڑا کرے گی، اور چغتائی ایک اور تصویر بنا دے گا جس کے نیچے یہ لکھا ہو گا
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
یا کوئی شاعر ایک اور غزل لکھ دے گا۔ ایک زمانے تک تماش بین جسے کوٹھوں پر طبلے کی تھاپ کے ساتھ سنتے رہیں گے، اس غزل کے شعر اس قسم کے ہوں گے
مری لحد پہ کوئی پردہ پوش آتا ہے
چراغ گور غریباں صبا بجھا دینا!
ایسے شعر جب کبھی وہ کسی غزل میں دیکھتا تو اس نتیجے پر پہنچتا کہ عشق گور کن ہے جو ہر وقت کاندھے پر کدال رکھے عاشقوں کے لئے قبریں کھود نے کے لئے تیار رہتا ہے۔ اس عشق سے وہ اس عشق کا مقابلہ کرتا جس کا تصور اس کے ذہن میں تھا۔ ان میں زمین و آسمان کا فرق پاتا تو یہ سوچتا کہ یا تو اس کا دماغ خراب ہے یا وہ نظام ہی خراب ہے جس میں وہ سانس لے رہا ہے۔
سعید اگر کوئی دیوان کھولتا۔ تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ وہ کسی قصائی کی دکان میں داخل ہو گیا ہے، ہر شعر اسے بے کھال کا بکرا دکھائی دیتا تھا جس کا گوشت چربی سمیت بو پیدا کر رہا ہو۔ ہر بات ایک خاص ذائقہ پیدا کرتی ہے جب وہ اس قسم کے شعر پڑھتا تو اس کی زبان پر وہی ذائقہ پیدا ہوتا جو قربانی کا گوشت کھاتے وقت وہ محسوس کیا کرتا تھا ....‘‘
وہ سوچتا جس صوبے میں آبادی کا چوتھا حصہ شاعر ہے اور ایسے ہی شعر کہتا ہے وہاں محبت ہمیشہ گوشت کے لو تھڑوں کے نیچے دبی رہے گی، یہ مایوسی کسی نہ کسی وجہ سے ایک دو روز کے بعد غائب ہو جاتی۔ اور وہ پھر نئی تازگی کے ساتھ اپنی محبت کے مسئلے پر غور و فکر کرنا شروع کر دیتا۔
نمبر آٹھ زبیدہ عرف بیدی بھرے بھرے ہاتھ پیر والی لڑکی تھی۔ دور سے دیکھنے پر گندھے ہوئے میدے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتی تھی۔ گلی کے ایک لڑکے نے اس کو ایک بار آنکھ ماری۔ بیچارے نے یوں اپنی محبت کی بسم اللہ کی تھی لیکن اس کو لینے کے دینے پڑ گئے، لڑکی نے ماں کو ساری رام کہانی سنائی۔ ماں نے اپنے بڑے لڑکے سے پوشیدہ طور پر بات چیت کی اور اس کو غیرت دلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک آنکھ مارنے کے دوسرے روز شام کو جب عبد الغنی صاحب طبابت عرف حکمت سیکھ کر واپس آئے تو ان کی دونوں آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ کہتے ہیں کہ زبیدہ عرف بیدی چق میں سے یہ تماشہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی، سعید کو چونکہ اپنی آنکھیں بہت پیاری تھیں۔ اس لئے وہ زبیدہ کے بارے میں ایک لمحہ کے لئے بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ عبد الغنی نے آنکھ کے پلکارے سے محبت کا آغاز کرنا چاہا تھا۔ سعید کو یہ طریقہ بازاری معلوم ہوتا تھا۔ وہ اگر اس کو اپنی محبت کا پیغام دینا چاہتا تو اپنی زبان استعمال کرتا جو دوسرے روز ہی کاٹ لی جاتی۔ عمل جراحی کرنے سے پہلے زبیدہ کا بھائی کبھی نہ پوچھتا کہ بات کیا ہے بس وہ غیرت کے نام پر چھری چلا دیتا۔ اس کو اس کا خیال کبھی نہ آتا کہ وہ چھ لڑکیوں کی عصمت برباد کر چکا ہے، جن کی داستانیں وہ بڑے مزے سے اپنے دوستوں کو سنایا کرتا ہے۔
نمبر نو، جس کا نام اسے معلوم نہیں تھا۔ پشمینے کے سوداگروں کے ہاں نو کر تھی۔ ایک بہت بڑا گھر تھا جس میں چاروں بھائی رہتے تھے، یہ لڑکی جو کشمیر کی پیداوار تھی۔ ان چاروں بھائیوں کے لئے سردیوں میں شال کا کام دیتی تھی۔ گرمیوں میں وہ سب کے سب کشمیر چلے جاتے تھے اور وہ اپنی کسی دور کی رشتہ دار عورت کے پاس چلی جاتی تھی۔ یہ لڑکی جو عورت بن چکی تھی۔ دن میں ایک دو مرتبہ اس کی نظروں کے سامنے سے ضرور گزرتی تھی اور اس کو دیکھ کر وہ ہمیشہ یہی خیال کرتا تھا، کہ اس نے ایک عورت نہیں بلکہ تین چار عورتیں اکٹھی دیکھی ہیں۔ اس لڑکی کے متعلق جس کے بیاہ کے بارے میں اب چاروں بھائی فکر کر رہے تھے اس نے کئی بار غور کیا وہ اس کی ہمت کا بہت قائل تھا کہ گھر کا سارا کام کاج اکیلی سنبھالتی تھی اور ان چار سوداگر بھائیوں کی فرداً فرداً خدمت بھی کرتی تھی۔
وہ بظاہر خوش تھی، ان چار سوداگر بھائیوں کو جن کے ساتھ اس کا جسم متعلق تھا وہ ایک ہی نظر سے دیکھتی تھی۔ اس کی زندگی جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایک عجیب و غریب کھیل تھا جس میں چار آدمی حصہ لے رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کو یہ سمجھنا پڑتا تھا کہ باقی تین بیوقوف ہیں۔ اور جب اس لڑکی کے ساتھ ان میں سے کوئی مل جاتا تو وہ دونوں یہ سمجھتے ہوں گے کہ گھر میں جتنے آدمی رہتے ہیں سب کے سب اندھے ہیں ،لیکن کیا وہ خود اندھی نہیں تھی اس سوال کا جواب سعید کو نہیں ملتا تھا۔ اگر وہ اندھی ہوتی تو بیک وقت چار آدمیوں سے تعلقات پیدا نہ کرتی بہت ممکن ہے، وہ ان چاروں کو ایک ہی سمجھتی ہو.... کیونکہ مرد اور عورت کا جسمانی تعلق عام طور پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے دن بڑے مزے سے گذارتی تھی، چاروں سوداگر بھائی اسے چھپ چھپ کر کچھ نہ کچھ ضرور دیتے ہوں گے۔ کیونکہ مرد جب کسی عورت کے ساتھ کچھ عرصہ لطف انگیز تخلئے میں گذارتا ہے تو اس کے دل میں اس کی قیمت ادا کرنے کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ یہ خواہش عام طور پر تخلیہ حاصل کرنے سے پہلے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے زیادہ بار آور ثابت ہوتی ہے۔
سعید اس کو اکثر بازار میں شہاب الدین حلوائی کی دکان پر کھیر کھاتے یا بھائی کیسر سنگھ میوہ فروش کی دکان کے پاس پھل کھاتے دیکھتا تھا۔ اسے ان چیزوں کی ضرورت تھی اور پھر جس آزادی سے وہ پھل اور کھیر کھاتی تھی اس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ ان کا ایک ایک ذرہ ہضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک بار جب سعید، شہاب الدین کی دکان پر فالودہ پی رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ اتنی ثقیل شے کیسے ہضم کر سکے گا وہ آئی اور چار آنے کی کھیر میں ایک آنے کی ربڑی ڈلوا کر دو منٹوں میں ساری پلیٹ چٹ کر گئی۔ یہ دیکھ کر سعید کو رشک ہوا جب وہ چلی گئی تو شہاب الدین کے میلے ہونٹوں پر ایک میلی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اس نے کسی بھی جو سن لے مخاطب کرتے ہوئے کہا، سالی مزے کر رہی ہے۔
یہ سن کراس نے لڑکی کی طرف دیکھا جو کولہے مٹکاتی پھلوں کی دکان کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اور شاید بھائی کیسر سنگھ کی ڈاڑھی کا مذاق اڑا رہی تھی.... وہ ہر وقت خوش رہتی تھی۔ اور اس کو خوش دیکھ کر سعید کو بہت دکھ ہوتا تھا۔ خدا معلوم کیوں اس کے دل میں یہ عجیب و غریب خواہش پیدا ہوتی تھی کہ وہ خوش نہ رہے۔
سنہ تیس کے آغاز تک وہ اس لڑکی کے متعلق یہی فیصلہ کرتا رہا کہ اس سے محبت نہیں کی جا سکتی۔ 
(۲) 
سن اکتیس کے شروع ہونے میں صرف رات کے چند برفائے ہوئے گھنٹے باقی تھے۔ سعید لحاف میں سردی کی شدت کے باعث کانپ رہا تھا، وہ پتلون اورکوٹ سمیت لیٹا تھا۔ لیکن اس کے باوجود سردی کی لہریں اس کی ہڈیوں تک پہنچ رہی تھیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی سبز روشنی میں جو سردی میں اضافہ کر رہی تھی، اس نے زور زور سے ٹہلنا شروع کر دیا تاکہ دوران خون تیز ہو جائے۔
تھوڑی دیر یوں چلنے پھرنے کے بعد جب اس کے اندر گرمی پیدا ہوئی تو وہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور سگریٹ سلگا کر اپنا دماغ ٹٹولنے لگا۔ اس کا دماغ چونکہ بالکل خالی تھا۔ اس لئے اس کی قوت سامعہ بہت تیز تھی، کمرے کی ساری کھڑکیاں بند تھیں مگر وہ باہر گلی میں ہوا کی مدھم گنگناہٹ بڑی آسانی سے سن رہا تھا۔ اسی گنگناہٹ میں اسے انسانی آوازیں سنائی دیں ،ایک، دبی دبی چیخ دسمبر کی آخری رات کی خاموشی میں کے اول کی طرح ابھری۔ پھر کسی کی التجائیہ آواز لرزی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کھڑکی کی درز میں سے باہر کی طرف دیکھا۔
وہی.... وہی لڑکی، یعنی سوداگروں کی نو کرانی بجلی کی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی۔ صرف ایک سفید بنیان میں بجلی کی سفید روشنی میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے بدن پر برف کی ایک پتلی سی تہہ جم گئی ہے۔ اس بنیان کے نیچے اس کی بد نما چھاتیاں ناریلوں کی طرح لٹکی ہوئی تھیں۔ وہ اس انداز میں کھڑی تھی، گویا، ابھی ابھی کُشتی سے فارغ ہوئی ہے۔ اس حالت میں دیکھ کر سعید کے صناعانہ جذبات کو دھکا سا لگا۔
اتنے میں کسی مرد کی بھینچی ہوئی آواز آئی.... خدا کے لئے اندر چلی آؤ.... کوئی دیکھ لے گا۔ تو آفت ہی آ جائے گی، وحشی بلی کی طرح غرا کر،لڑکی نے جواب دیا، نہیں آؤں گی.... بس ایک بار جو کہہ دیا کہ نہیں آؤں گی....
سب سے چھوٹے سوداگر کی آواز آئی۔’’ خدا کے لئے اونچے نہ بولو.... کوئی سن لے گا راجو....‘تو اس کا نام راجو تھا۔
را جو نے اپنی لنڈوری چٹیا کو جھٹکا دے کر کہا۔، سن لے خدا کرے کوئی سن لے .... اور اگر تم یونہی مجھے آنے کے لئے کہتے رہے تو میں خود محلے بھر کو جگا کر سب کچھ کہہ دوں گی....سمجھے؟‘‘
راجو، سعید کو نظر آ رہی تھی، مگر جس سے وہ مخاطب تھی، اس کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے بڑے سوراخ میں سے راجو کی طرف دیکھا، تو اس کے بدن پر جھرجھری سی طاری ہو گئی، اگر وہ ساری کی ساری ننگی ہوتی تو شاید اس کے صناعانہ جذبات کو اتنی ٹھیس نہ پہنچتی، لیکن اس کے جسم کے وہ حصے ننگے تھے، جو دوسرے مستور حصوں کو عریانی کی دعوت دے رہے تھے، راجو برقی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی۔ سعید کو.... ایسا محسوس ہوا کہ عورت کے متعلق اس کے تمام جذبات اپنے کپڑے اتار رہے ہیں۔
راجو کی غیر متناسب باہیں جو کاندھوں تک ننگی تھیں ، نفرت انگیز طور پر لٹک رہی تھیں ، مردانہ بنیان کے کھلے اور گول گلے میں سے اس کی نیم پخت، ڈبل روٹی جیسی موٹی اور نرم چھاتیاں ، کچھ اس انداز سے باہر جھانک رہی تھیں ، گویا سبزی ترکاری کی ٹوٹی ہوئی ٹو کری میں سے گوشت کے ٹکڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ زیادہ استعمال سے گھسی ہوئی پتلی بنیان کا نچلا گھیرا خود بخود اوپر کو سمٹ گیا تھا۔ اور ناف کا گڈھا اس کے خمیرے آٹے جیسے پھولے ہوئے پیٹ پر یوں دکھائی دیتا تھا جیسے کسی نے انگلی کھبو دی ہے۔
یہ نظارہ دیکھ کر سعید کے دماغ کا ذائقہ خراب ہو گیا، اس نے چاہا کہ کھڑکی سے ہٹ کر اپنے بستر کی طرف چلا آئے، اور سب کچھ بھول بھال کے سو جائے، لیکن جانے کیوں سوراخ پر آنکھ جمائے کھڑا رہا۔ راجو کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے دل میں کافی نفرت پیدا ہو گئی تھی، شاید اسی نفرت کے باعث وہ اس سے دلچسپی لے رہا تھا۔
سوداگر کے سب سے چھوٹے لڑکے نے جس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ ہو گی ایک بار پھر التجائیہ لہجہ میں کہا۔’’ راجو خدا کے لئے اندر چلی آؤ، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ پھر کبھی نہیں ستاؤں گا.... لو اب من جاؤ.... دیکھو خدا کے لئے اب مان لو.... یہ تمہاری بغل میں وکیلوں کا مکان ہے ان میں سے کسی نے دیکھ لیا تو بڑی بدنامی ہو گی۔
راجو خاموش رہی لیکن تھوڑی دیر کے بعد بولی۔ مجھے میرے کپڑے لا دو بس اب میں تمہارے یہاں نہیں رہوں گی۔ میں تنگ آ گئی ہوں ، میں کل سے وکیلوں کے ہاں نو کری کر لوں گی.... سمجھے! اب اگر تم نے مجھ سے کچھ کہا تو خدا کی قسم شور مچانا شروع کر دوں گی.... میرے کپڑے چپ چاپ لا کر دے دو.... سوداگر کے لڑکے کی آواز آئی.... لیکن تم رات کہاں کاٹو گی؟
راجو نے کہا جہنم میں۔ تمہیں اس سے کیا۔ جاؤ تم اپنی بیوی کی بغل گرم کرو۔ میں کہیں نہ کہیں سو جاؤں گی.... اس کی آنکھوں میں آنسو تھے....
سوراخ پر سے آنکھ ہٹا کر سعید پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا راجو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے ایک عجیب قسم کا صدمہ ہوا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صدمے کے ساتھ وہ نفرت بھی لپٹی ہوئی تھی۔ جو راجو کو اس حالت میں دیکھ کر سعید کے دل میں پیدا ہوئی تھی۔ مگر غایت درجہ نرم دل ہونے کے باعث وہ پگھل سا گیا۔ راجو کی آنکھوں میں جو شیشے کے مرتبان میں چمکدار مچھلیوں کی طرح سدا متحرک رہتی تھیں۔  آنسو دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اٹھ کر اسے دلا سا دے۔
راجو کی جوانی کے چار قیمتی برس سوداگر بھائیوں نے معمولی چٹائی کی طرح استعمال کئے تھے، ان برسوں پر چاروں بھائیوں کے نقش قدم کچھ اس طرح غلط ملط ہو گئے تھے کہ ان میں سے اب کسی کو اس بات کا خوف ہی نہیں رہا تھا کہ کوئی ان کے پیروں کے نشان پہچان لے گا۔ اور’’ راجو‘‘ کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہ اپنے قدموں کے نشان دیکھتی تھی، نہ دوسروں کے، اسے بس چلتے جانے کی دھن تھی۔ کسی بھی طرف مگر اب شاید اس نے مڑ کر دیکھا تھا.... مڑ کر اس نے کیا دیکھا تھا، جو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.... یہ سعید کو معلوم نہیں تھا۔
جو چیز معلوم نہ ہو، اس کو معلوم کرنے کی خواہش شاید ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ کرس
حسین الحق کی کہانی
_________________رتن سنگھ
          حسین الحق کی کہانی ’’غم زدہ ‘‘کا آخری جملہ ہے
          ’’ بو بو کی موت کا اس طرح بیان کہانی بن سکتا ہے  یا نہیں  ‘‘
           اس سوال کا جواب ہے  ’’ ہاں  کہانی بن گئی ہے۔ ‘‘
          عام سی عورت کی عام سی زندگی کی تصویر اس طرح نقش ہوتی ہے  کہ ایک خوبصورت کہانی تخلیق ہو گئی ہے۔ اور اس پرطرہ یہ کہ کہانی کا کوئی خاص تانا بانا نہیں۔ کوئی ایسا واقعہ نہیں  کہ تجسس بنا رہے  کہ آگے  کیا ہوا۔ مگر پھر بھی کہانی اس لئے  بن گئی کہ قدم قدم پر انسان کے  دل سے  سچی محبت اور خلوص کا جذبہ چھلک پڑتا ہے۔
          اپنی چچا زاد بہن بو بو کے  مرنے  کی خبر ملی ہے  اسے  اپنی بیوی سے، اور اس کی نظروں  کے  سامنے  مرحومہ کی زندگی یا یوں  کہہ لیجئے  کہ اس کے  ساتھ بتائے  ہوئے  لمحے  منظر در منظر گذر رہے  ہیں اور  وہ ان لمحوں  کو دوبارہ جی رہا ہے۔
           دوبارہ جی رہا ہے۔
          اور بو بو کو زندگی بخش رہا ہے۔
          بیوی بولتی ہوئی بتاتی جا رہی ہے۔ ’’ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ان کو کینسر نکل آیا۔ معلوم ہوا کہ بالکل آخری مرحلہ ہے۔ تین چار ماہ بوبو نے  بہت تکلیف میں  گزارے۔ ‘‘
          بو بو کی اس تکلیف دہ خبر نے  سننے  والے  کو اس طرح پریشان کر دیا ہے  کہ جیسے  مرنے  والی کادرد، اس کا درد بن گیا ہو۔ وہ اس درد کو اس طرح جھیل رہا ہے  جیسے  سب کچھ اس پر گذر گیا ہو۔
          ’’ اس نے  منھ کھول کر زور زور سے  سانس لینے  کی کو شش کی تو اسے  لگا جیسے  اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ ‘‘
           ایسے  میں  مرحومہ کی یاد ’’پکشیوں  کے  پنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ ‘‘ بن کر سنائی دے  رہی ہے۔ اس سے  عمر میں  صرف ایک سال بڑی تھیں، اس لئے  دونوں  ایک جگہ رہتے  تھے اور  کتنی اپنائیت تھی۔ اسی اپنائیت کی وجہ سے  چچا کے  ان دنوں  نے  اس کے  تصور میں  ڈیرا ڈال دیا جب غربت کی وجہ سے  بو بو کی شادی کے  لئے  انھوں  نے  اپنا گھر بیچ دیا تھا۔
          ’’ بو بو کی شادی کے  بعد کرایے  کے  مکان میں  بہ شکل چھ ماہ رہے  ہوں  گے  کہ موت آئی اور وہ عدم آباد روانہ ہو گئے۔
           بو بو کی موت کے  غم سے  ہی اسے  نجات نہیں  ملی تھی کہ اس کے  بارے  میں  سوچتے  سوچتے  چچا کی غربت اور موت کا دکھ دل پر بوجھ بن کر اتر آیا۔
           رات بستر پر پڑے  پڑے  بہت دیر بعد اسے  احساس ہوا کہ نیند نہیں  آ رہی ہے۔ ظاہر ہے  ایسے  درد مندانسان کے  دل میں  دکھ کے  تیر چبھتے  رہیں  گے۔
          حسین الحق لکھتے  ہیں  :
          ’’ رات بھر دھوپ چھاؤں  کا کھیل رہا۔ ‘‘
          رات کے  اندھیرے  میں  اسے  نیند نہیں  آ رہی۔ اس رات میں  چھائی دھوپ کی انیاں  اس کے  جسم کو بیند رہی ہیں، آگ بن کر جھلسا رہی ہیں۔ اس رات میں  چھاؤں  کے  سایے  اس کے  وجود کو سانپ بن کر ڈس رہے  ہیں۔ ایسا  اس لئے  ہو رہا ہے  کہ یہی بو بو جب زندگی کی تکلیفوں  کا سامنا کرتی ہوئی اس کے  پاس آئی تھی تو وہ لاکھ چاہتے  ہوئے  بھی اس کی خاص مدد نہیں  کر پایا تھا۔
          وہ جل بن مچھلی کی طرح چھٹپٹایا تھا۔۔۔  مگر بوبو اور میاں  بھائی کی مدد نہیں  کر پایا تھا۔ یوں  جاتے  وقت وہ اسے  کچھ پیسے  دیتا ہے۔ اس کی بیوی نے  کچھ پرانے  کپڑے  بھی دیئے  تھے  لیکن کیا یہ کافی تھا۔
          اس بو بو کے  لئے  جو۔۔۔
          ’’ گرمی کی دوپہروں  میں۔۔۔  مزاروں  کے  بیچ تمکوئی چننے  کے  چکر میں۔۔۔  کیسی دھما چوکڑی مچتی تھی۔۔۔  بو بو کے  دھمکانے  پر۔۔۔  وہ اپنے  حصے  کا آدھا ان کے  حوالے  کر دیتا تھا۔ وہ بو بو جو بچپن میں  اس کے  حصے  کا آدھا بھی اس سے  لے  لیتی تھی، اب بڑا ہو جانے  پر حقیقی ضرورت کے  وقت اس کی مدد نہ کر پانے  کی صورت میں  آپ خود اندازہ لگا سکتے  ہیں  کہ اچھے  دردمند انسان کے  دل پر کس کس طرح کا درد نہ اٹھا ہو گا۔
           مگر یہ بو بو محض چچا زاد بہن ہی نہیں  تھی۔۔۔  کچھ اور بھی تھی۔
          ’’ جب کبھی وہ اپنے  گھر پکی ایک پھلکی یا سموسہ چپکے  سے  دیتیں۔۔۔  یا پھر میدان سے  بیر توڑکر دامن میں  چھپائے  آتیں اور  اشارے  سے  بلاتیں  تو اسے  لگتا کہ یہ تو سچ مچ اس کی ماں  ہے۔
          ’’ اماں  بھی مر گئیں، بو بو بھی مر گئیں۔
          ’’ ماں  جیسی بو بو۔ ‘‘اور اب اسے  افسوس ہو رہا ہے  کہ میں  نے  پیسہ کمایا، عیش کے  کوچے  کو چلا، دنیا گھومی۔‘‘
           لیکن بو بو کی کوئی مدد نہیں  کر پایا۔
           خطا کس کی ہے۔ وہ خود سے  سوال کرتا ہے۔
           اور اپنے  اندر سے  اسے  کوئی جواب نہیں  ملتا۔۔۔  وہ بھنور میں  ہچکولے  کھانے  لگتا ہے۔
          مگر یہ پچھتاوا کیا اسے  سونے  دے  گا؟
          نہیں۔ زندگی بھر نہیں۔
          حسین الحق صاحب۔ اسی لئے  یہ کہانی بن گئی ہے۔
          کہانی جو درد مند قاری کی نیند بھی حرام کر دے  گی
مکمل تحریر >>